اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، واشنگٹن میں قائم شیعہ مسلم فاؤنڈیشن نے امریکی وفاقی پولیس کی جانب سے ایک خاتون کی گرفتاری کا خیرمقدم کیا ہے، جس پر نیویارک کی ریاستی اسمبلی کی عمارت کے خلاف داعش سے منسلک بم حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ داعش نہ اسلام کی نمائندہ ہے اور نہ ہی امریکہ کے مسلمانوں کی۔ اس تنظیم کے نظریات اسلامی تعلیمات، انسانی جان کے احترام اور عبادت گاہوں کے تقدس سے براہِ راست متصادم ہیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق، امریکہ میں مسلم برادریاں متعدد مرتبہ داعش کے نظریے کو مسترد کر چکی ہیں اور مشتبہ انتہا پسند سرگرمیوں کی اطلاع سکیورٹی اداروں کو دیتی رہی ہیں۔
ادارے نے خبردار کیا کہ امریکہ میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف داعش کا خطرہ محض ایک نظری امکان نہیں، کیونکہ یہ دہشت گرد تنظیم شیعوں کو اپنا دشمن سمجھتی ہے اور مختلف ممالک میں شیعہ نمازیوں کو نشانہ بنا چکی ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق امریکہ میں بھی داعش کے حامی ماضی میں شیعہ مساجد پر حملوں کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں۔
فاؤنڈیشن نے نومبر 2023 میں خاویر پلکی کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسے شکاگو کے علاقے میں ایک شیعہ مسجد پر حملے کی سازش کے جرم میں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق پلکی اور داعش کے حامی دو کم عمر افراد مسجد میں داخل ہو کر بالغ افراد کو بچوں سے الگ کرنے اور پھر فائرنگ اور دھماکا خیز مواد کے ذریعے انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
وفاقی اہلکاروں نے پلکی کے گھر سے دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا تھا، جس میں اسٹیپل، سوئیاں اور پن جیسی اشیا شامل تھیں تاکہ دھماکے کے دوران انہیں چھروں کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
بیان کے مطابق ملزمان پولیس کی مداخلت کی صورت میں کسی دوسری شیعہ مسجد یا حتیٰ کہ ایک یہودی عبادت گاہ کو نشانہ بنانے اور سکیورٹی اہلکاروں کے روکنے تک قتل عام جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ بعد ازاں پلکی نے دہشت گردوں کو مادی مدد فراہم کرنے کی سازش کے الزام میں اپنے جرم کا اعتراف کیا۔
شیعہ مسلم فاؤنڈیشن نے جولائی 2025 کے ایک اور مقدمے کا بھی حوالہ دیا، جس میں ایک 16 سالہ نوجوان پر الزام تھا کہ اس نے الینوائے کے شہر گلینڈیل ہائٹس میں واقع حسینی اسلامک سینٹر میں ایک مذہبی تقریب کے دوران عمارت اور نمازیوں کی ویڈیوز بنائیں اور ممکنہ بم حملے کے لیے معلومات جمع کیں۔ تحقیقات کے دوران ایک چھپا ہوا آتشیں ہتھیار اور دیگر شواہد بھی برآمد ہوئے۔
حالیہ معاملے میں ایف بی آئی نے اپنی فوجداری شکایت میں الزام عائد کیا ہے کہ جیسیکا بووی نے داعش سے آن لائن رابطوں کے دوران اس تنظیم سے وفاداری کا اظہار کیا اور جولائی سے حملے کی منصوبہ بندی شروع کی۔ اطلاعات کے مطابق وہ کئی ہفتوں تک نیویارک کی ریاستی اسمبلی کی عمارت کی نگرانی کرتی رہی اور قریبی مقامات، بشمول ایک مشاہداتی مقام، سے عمارت کی تصاویر بھی بناتی رہی۔
شیعہ مسلم فاؤنڈیشن نے اس کارروائی میں ایف بی آئی، امریکی اٹارنی کے دفتر، سیکرٹ سروس، نیویارک پولیس، البانی پولیس، البانی کاؤنٹی شیرف کے دفتر اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی تحقیقات سے متعلق ادارے کے تعاون کو بھی سراہا۔
فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر راحت حسین نے کہا کہ امریکہ کے مسلمان داعش اور اس کے نظریات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق داعش نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو قتل کیا ہے اور امریکہ میں شیعہ نمازیوں کے قتل کی سازشوں کے لیے بھی اپنے حامیوں کو متاثر کیا ہے۔
فاؤنڈیشن نے وفاقی اور مقامی حکام سے مطالبہ کیا کہ مسلم برادریوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ برقرار رکھا جائے، خطرات کے جائزے میں شیعہ مخالف انتہا پسندی کو بھی شامل کیا جائے اور مساجد کو مزید سکیورٹی تربیت اور وسائل فراہم کیے جائیں۔ ادارے نے داعش کے پروپیگنڈے، مساجد کو لاحق خطرات، مشتبہ ہتھیاروں اور نمازیوں کے خلاف دھمکیوں کی اطلاعات پر فوری کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔
آپ کا تبصرہ